آرٹیمس ٹو کے خلابازوں نے جمعے کو بحرالکاہل میں لینڈنگ کر کے نصف صدی سے زائد عرصے بعد انسان کا چاند کی جانب پہلا سفر مکمل کر لیاہے۔
اس دوران انہوں نے انتہائی شاندار انداز میں چاند کے قریب نئے ریکارڈز قائم کیے۔
یہ ایک ایسے مشن کا ڈرامائی اور عظیم الشان اختتام تھا جس نے نہ صرف چاند کے اس دور دراز حصے کو عیاں کیا جسے اس سے قبل انسانی آنکھ نے کبھی نہیں دیکھا تھا، بلکہ ایک مکمل سورج گرہن، سیاروں کی قطار اور خاص طور پر خلا کی لامتناہی تاریکی کے پس منظر میں چمکتی ہوئی ہماری اپنی زمین کے مسحور کن مناظر بھی دکھائے۔
اپنی پرواز مکمل کرنے کے بعد ان چاروں خلابازوں نے محض دو سال میں ایک اور عملے کی چاند پر لینڈنگ اور اسی دہائی کے اندر چاند پر باقاعدہ بیس کے قیام کی خاطر خلائی تحقیق کے امریکی ادارے ناسا کے لیے راہ ہموار کر دی۔
چاند کا یہ کامیاب سفر کرنے والے کمانڈر ریڈ وائزمین، پائلٹ وکٹر گلوور، کرسٹینا کوچ اور کینیڈا کے جیریمی ہین سن، سان ڈیاگو کے ساحل کے قریب سمندر میں ہچکولے کھاتے اپنے کیپسول سے نکل کر باہر دھوپ میں آئے۔