ویب ڈسیک،
پنجاب بجٹ 26-2026 میں تعلیم کے لیے 750 ارب روپے کا تاریخی فنڈ، لیپ ٹاپ اور سکالرشپ سکیموں کی تفصیلات سامنے آ گئیں.
پنجاب حکومت نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار شعبہ تعلیم کی ترقی کے لیے غیر معمولی اقدامات اٹھاتے ہوئے مالی سال 27-2026 کے سالانہ بجٹ میں 750 ارب روپے کے بھاری فنڈز مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فنڈز سکولوں، کالجوں اور جامعات کی سطح پر تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔
صوبائی وزیر برائے سکول و ہائر ایجوکیشن رانا سکندر حیات نے اس بجٹ کو تعلیم کے میدان میں ایک ‘ریکارڈ سرمایہ کاری’ قرار دیا ہے، جس کا مقصد بنیادی تعلیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنا اور غریب و مستحق طلبہ کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے جاری اخراجات کے لیے 83.48 ارب روپے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے 11.15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات کی مد میں 68.72 ارب روپے الگ سے رکھے گئے ہیں۔ تاہم، تعلیمی ترقیاتی بجٹ میں مجموعی طور پر 37 ارب روپے کی کٹوتی بھی دیکھی گئی ہے۔
ڈیجیٹل پاکستان اور طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے لیے حکومت کا سب سے بڑا اقدام “چیف منسٹر لیپ ٹاپ پروگرام” ہے۔ اس منصوبے کے لیے بجٹ میں 10 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔ اس فنڈ سے صوبے بھر کے ہونہار طلبہ میں 1 لاکھ 10 ہزار (110,000) لیپ ٹاپس تقسیم کیے جائیں گے تاکہ وہ آن لائن تعلیم اور فری لانسنگ کے میدان میں اپنا لوہا منوا سکیں۔
نوجوانوں کو بروجگار اور ہنرمند بنانے کے مشن کے تحت “ہنرمند سکالرشپ پروگرام” کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے اس اسکیم کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے ہیں، جس سے براہِ راست 1 لاکھ سے زائد طلبہ مستفید ہوں گے اور مختلف ٹیکنیکل و پروفیشنل کورسز کی مفت تعلیم حاصل کر سکیں گے۔
سکول میل پروگرام اور آٹزم سکولز کا قیام (School Meal & Autism Schools)
مغذی دودھ کی فراہمی: پنجاب کے 13 اضلاع میں جاری “سکول میل پروگرام” کو برقرار رکھا گیا ہے، جس کے تحت تقریباً 11 لاکھ 20 ہزار (1.12 million) سکول جانے والے بچوں کو غذائیت سے بھرپور دودھ فراہم کیا جاتا رہے گا۔
آٹزم سکولز کا نیٹ ورک: لاہور میں خصوصی بچوں کے لیے قائم کیے گئے پہلے سپیشلائزڈ ادارے کی کامیابی کے بعد، اب حکومت نے پنجاب کے ہر ڈویژن میں آٹزم سکول قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے تاکہ ذہنی و جسمانی چیلنجز کا شکار بچوں کو بھی بہترین تعلیم مل سکے۔