متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے حکومت سے 28ویں آئینی ترمیم فوری طور پر لانے اور آرٹیکل 140 اے کو مؤثر بنانے کا مطالبہ کردیا۔ کراچی میں چیرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے پارٹی کے دیگر رپنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر آرٹیکل 140 اے کو اٹھارویں ترمیم کے بعد جرم سمجھا جاتا ہے تو ہم بھی اس میں شریک ہیں، 28ویں ترمیم کے ذریعے اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں، پاکستان کی تمام قومیتوں اور زبانیں بولنے والوں کے لیے متحد ہونے کا وقت آ چکا ہے کیوں کہ دشمن براہ راست میدان جنگ میں شکست نہ دے سکے تو سازشوں کے ذریعے انتشار پیدا کرتا ہے، کراچی دشمن کے لیے سب سے آسان ہدف بن سکتا ہے کیوں کہ یہ شہر پاکستان کی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کراچی کو موجودہ حالات میں نظر انداز کرکے ملک کے استحکام کی ضمانت نہیں دی جا سکتی، ہر بحران سے نمٹنے کے لیے قوم کو تیار رہنا ہوگا، پاکستان ثالثی اور مذاکرات کے جس عزم کا اظہار کر رہا ہے ہم ان کے ساتھ ہیں، سرحدوں کی حفاظت کرنے کے لیے پاک افواج دفاع کرسکتی ہیں، قوموں پر مسلط جنگ فوج نہیں پوری قوم لڑتی ہے، جنگ زدہ علاقوں میں دیکھا ہے ایسے حالات میں اقتدار کو عوام کی جانب منتقل کر دیا جاتا ہے کیوں کہ صرف ووٹ لینے والوں کا نہیں ووٹ دینے والوں کا بھی حق ہوتا ہے لیکن پاکستان میں موروثی سیاست اور خاندانی اقتدار اس بات کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم منتظر تھے اٹھائیسویں ترمیم میں پاکستان کی عوام کو خوشخبری دی جاتی کہ اقتدار میں بھی آپ کا حصہ ہے، معاشی بحران سے متعلق اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، لاک ڈاؤن کی باتیں ہو رہی ہیں شہریوں کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے کیا اقدامات ہونے چاہئیں، ہم اپنے حصے کا اختیار عوام کو دینا چاہتے ہیں لیکن ایک مختصر سی اقلیت کے جاگیر دارانہ مزاج کی وجہ سے اختیارات کی منتقلی کو روکا جا رہا ہے، وزیراعظم سے کہتا ہوں ایم کیو ایم کی قیادت بیٹھی ہے، ہم نے آپ کا ساتھ دینے کے لیے ایک مطالبہ رکھا تھا کہ پاکستان کا آئین پاکستان کے عوام کے تحفظ کے لیے بنایا گیا ہے۔
اس موقع پر ایم کیو ایم رہنماء فاروق ستار نے کہا کہ ہر شہری کو اپنی دہلیز پر فیصلے کرنے کا اختیار دیا جانا چاہیئے اور پاکستان میں مؤثر و بااختیار بلدیاتی نظام قائم کرنا ہوگا، جاگیردارانہ جمہوریت کا خاتمہ اور مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے، اختیارات دیئے بغیر کسی میئر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، ملک کے 144 اضلاع اور شہروں کو خودمختار اور مضبوط بنانے کی ضرورت ہے، ملک کو درپیش ہر بحران سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ہوگا اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا ضروری ہے، پاکستان کی عوام ہی جمہوریت اور ملک کو بچا سکتی ہے۔
