ہماری خواتین اور عصرحاضر میں انکی ذمہ داریاں، پروفیسرڈاکٹرلبنی ظہیر

بشکریہ: ڈیلی نئی بات

ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے ہم پاکستان میں بھی یہ دن نہایت اہتمام سے مناتے ہیں۔ اس دن خواتین کے کردار کی اہمیت اجاگر کرنے کیلئے مختلف سرکار ی ، نیم سرکاری اور نجی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ سیمینار ، تربیتی پروگرام، واک ، مذاکرے اور دیگر پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔سچ پوچھیں تو ا ب ہم خواتین بھی اس دن کے عادی ہو گئی ہیں۔ اس دن کو منا نا ہم پر جیسے واجب ہو چلا ہے۔ اچھا لگتا ہے کہ خواتین کے لئے ایک دن مخصوص ہے، جس میں ان کی اہمیت، حقوق، جدوجہدکا تذکرہ ہوتا ہے۔ ان کے مسائل، مشکلات اور پریشانیوں کا ذکر ہوتا ہے۔ ان کی کامیابیوں اور کامرانیوں کا چرچا ہوتا ہے۔ کوئی بھی دن منانا محض ایک رسمی کارروائی نہیں ہوتا۔ کسی خاص دن کو منانے کا کوئی خاص مقصد ہوتا ہے۔ خواتین کا عالمی دن منانے کا مقصد یہ ہے کہ خواتین کی اہمیت کو تسلیم کیا جائے۔ ان کی مشکلات و مسائل کو دور کرنے کی کاوش کی جائے۔ ان کے لئے ترقی و خوشحالی کی راہیں ہموار کی جائیں۔

جہاں تک پاکستانی خواتین کا تعلق ہے تو یہ ہر شعبے میں نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔ ہمارے پاس فخر کرنے کیلئے بہت سی خواتین موجود ہیں جو ہمارے لئے مشعل راہ ہیں اور جن کی جدوجہد قابل فخر ہے۔ مثال کے طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ ان کے سیاسی نظریات سے قطع نظر، وہ ہمارے ملک کا ایک قابل فخر حوالہ ہیں۔ دنیا بھر میں ان کی وجہ سے پاکستان کا نام روشن ہوا۔ اسلامی دنیا کی پہلی سربراہ حکومت ہونا ایک ایسا اعزاز ہے جو آج تک پاکستان کے ماتھے پر سجا ہے۔ آپ اندازہ کیجئے کہ امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک بھی آج تک یہ اعزاز حاصل نہیں کر سکا۔ بے نظیر بھٹو سے پہلے محترمہ فاطمہ جناح قومی سیاست میں متحرک تھیں۔ کیا بہادر خاتون تھی، جس نے ایک فوجی ڈکٹیٹر کے مقابلے میں صدارتی انتخاب لڑا ۔ بالکل اسی طرح 1947ء سے قبل ہماری مسلمان خواتین تحریک آزادی میں کافی متحرک تھیں۔ قائد اعظم اور دیگرمرد راہنمائوں کے شانہ بشانہ انہوں نے آزادی کا پیغام گھر گھر پہنچایا۔ آج بھی ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں تحریک آزادی کے زمانے کی بلیک اینڈ وائٹ تصاویر لگی ہیں ، جن میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین بھی شٹل کاک برقعوں میں موجود ہیں۔ سیاست کا ذکر چل نکلا ہے تو محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ کلثوم نواز کا کردار بھی ہماری سیاسی تاریخ میں رقم ہے۔ ان دونوں خواتین نے فوجی آمروں کے مقابل سیاسی جدوجہد کی۔ آج انہی بیگم کلثوم نواز کی بیٹی مریم نواز شریف پنجاب کی وزیر اعلیٰ کے طور پر متحرک ہیں۔ مریم نواز نے اس زمانے میں سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا جب ان کے والد کی سیاسی جماعت زیر عتاب تھی۔ غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو مریم نواز نے ملکی سیاست میں اپنی جگہ خود بنائی۔ آج بطور وزیر اعلیٰ انہوں نے کئی سابق اور موجود وزرائے اعلیٰ کو کارکردگی میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ان چند بڑے ناموں کے علاوہ بھی ہماری سیاست میں بیسیوں خواتین موجود ہیں جو نہایت ذمہ داری سے اپنے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔

سیاست سے ہٹ کر، کوئی بھی شعبہ دیکھ لیجئے پاکستانی خواتین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ پر نگاہ ڈالیں، کئی قابل خواتین دکھائی دیتی ہیں۔ شعبہ صحافت میں بھی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ نظر آتی ہیں۔ تعلیم کے شعبے میں تو غالباً خواتین کا غلبہ ہے۔ شعبہ طب میں بھی خواتین بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ ہماری خواتین کامیابی سے کاروبار کر رہی ہیں۔ جہاز اڑا رہی ہیں۔ جنگیں لڑ رہی ہیں۔ یعنی ہر شعبے میں آپ کو خواتین نظر آئیں گی۔ تاہم عالمی یوم خواتین صرف اعلیٰ عہدوں پر فائز پروفیشل خواتین کیلئے مخصوص نہیں ہے۔ یہ دن ان خواتین کو بھی خرا ج تحسین پیش کرنے کیلئے مختص ہے جو معمولی نوکریاں کرتی ہیں۔ عام سے کاروبار چلاتی ہیں۔سبزی پیاز بیچتی ہیں۔ رکشہ یا ٹیکسی ڈرائیور ہیں۔ فصلوں کی کٹائی میں اپنے گھر کے مردوں کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔ یوم نسواں یہ (بظاہر) معمولی کام کرنے والی غیر معمولی خواتین کی جدوجہد اور عظمت کو سراہنے کا دن ہے۔

خواتین کا عالمی دن ہمیں ان تمام بہنوں ، بیٹیوں کو بھی سراہنے کا درس دیتا ہے جو اپنے گھروں میں اپنے خاندانوں کی خدمت میں سارا سال مصروف رہتی ہیں۔ ہم نے کبھی غور نہیں کرتے تاہم ہماری مائیں، بہنیں، بیٹیاں ، وغیرہ بغیر کسی معاوضے کے سارا سال اپنے گھر کو سنوارنے اور گھر والوں کو سکون کی فراہمی میں جتی رہتی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ یہ گھریلو خواتین نا ہوں تو لاکھوں کروڑوں گھروں کا نظام درہم برہم ہو جائے۔ یہ گھریلو خواتین ہی ہیں جو اپنے گھر کو ایک ترتیب اور سلیقے سے چلائے رکھتی ہیں۔ لازم ہے کہ کم از کم اس ایک دن سب مرد اپنی گھریلو خواتین کی خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کریں اور ان کا حوصلہ بڑھائیں۔ افسوس کی بات ہے کہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر مرد حضرات اپنے دفتری اور کاروباری مسائل کی ٹینشن اپنے گھر کی خواتین پر نکالتے ہیں۔ میں اپنے ارد گرد ایسے کئی مردوں کو جانتی ہوں جو سمجھتے ہیں کہ صرف ملازمت یا کاروبار کرنا ہی کام کہلاتا ہے، گھر میں خواتین کا کام کرنا کسی گنتی شمار میں نہیں ہے۔ یوم خواتین کا سبق یہ ہے کہ ہم ان گھریلو خواتین کے بارے میں اپنا رویہ تبدیل کریں ۔ ان کے احسان مند ہوں اور ان کی خدمات کے بدلے میں ان کیساتھ اظہار تشکر کریں۔

تاہم اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تمام تر ترقی اور تحرک کے باوجود پاکستانی خواتین مشکلات میں گھری ہوئی ہیں۔ ایک طرف پاکستانی خاتون وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بن جاتی ہے۔ دوسری طرف ایسے علاقے بھی ہیں جہاں چھوٹی بچیوں کی تعلیم پر پابندی ہے۔ بغیر رضامندی حاصل کئے چھوٹی عمر میں ان کی شادی کر دی جاتی ہے۔ ابھی تک سماج میں کاروکاری، قرآن سے شادی جیسی رسومات موجود ہیں۔ عورتوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انہیں ہراسگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں قتل و غارت گری کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ ابھی تک ایسے علاقے موجود ہیں جہاں عورتوں کو انتخابات میں ووٹ ڈالنے تک کی اجازت نہیں ہے۔ حقوق نسواں کی بات کی جائے تو قانون سازی کی حد تک بہت سے قانون اور ضابطے موجود ہیں۔ تاہم بہت سے قوانین صرف کاغذی دستاویزات اور زبانی کلامی باتوں تک محدود ہیں۔ یعنی عملی طور پر قوانین کے نفاذ کی حالت اچھی نہیں ہے۔ ایک لمبی جنگ اور جدوجہد ہے جو خواتین کو حقوق کے ضمن میں درپیش ہے۔ تاہم مایوسی والی بات نہیں ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بھی خواتین ظلم و زیادتی اور تشدد کا شکار ہیں۔ امریکہ جیسے ملک میں بھی خواتین کے خلاف جرائم کی شرح اچھی بھلی ہے۔ ہم تو پھر ایک ترقی پذیر اور قدامت پرست سماج میں رہتے ہیں۔ امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان میں آنے والے وقت میں حقوق نسواں کے متعلق صورتحال میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خواتین مایوس نا ہوں اور ایک ایک قدم ہی سہی، اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں