بشکریہ: ڈیلی نئی بات
لاہور پریس کلب کا جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میری نگاہ سے گزرا ہے۔ اس اطلاع نامے کے مطابق لاہور پریس کلب کی گورننگ باڈی نے صحافت جیسے مقدس پیشے کو بدنام کرنے والے مافیا کے تدارک کیلئے سینئر اراکین پر مشتمل “کمیٹی برائے انسدادِ کرپٹ مافیا” تشکیل دی ہے۔ یہ کمیٹی قانون نافذ کرنے والے محکموں کے سربراہان سے رابطہ کرے گی اور عام شہریوں کی شکایات کے ازالے کے لئے کام کرے گی۔ نوٹیفکیشن پڑھ کر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی۔ دو دہائیوں سے زائد عرصہ سے میں بھی شعبہ صحافت اور ابلاغیات کی ایک ادنیٰ طالب علم ہوں۔ تاہم اس قسم کا اطلاع نامہ اس سے پہلے کم از کم میری نگاہ سے نہیں گزرا۔
غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو پاکستانی میڈیا کی اہمیت اور مثبت کردار ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ یہ بھی تسلیم کہ پاکستان میں زیادہ تر صحافی، صحافتی اخلاقیات کو مدنظر رکھ کر اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ ایسے صحافیوں کی بھی ایک طویل فہرست مرتب کی جا سکتی ہے، جنہوں نے اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھوئے یا اپنی جانوں سے گئے، تاہم کبھی صحافتی اصولوں اور نظریات پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان تمام حقائق سے قطع نظر، سچ یہ ہے کہ میڈیا کے ایک حلقے کا قبلہ درست نہیں ہے۔ شعبہ صحافت کی بات کریں تو اس میں بھی کالی بھیڑوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ یہاں صحافت کو بلیک میلنگ کرنے، مال بنانے، کاروبار کو فروغ دینے کا ذریعہ بنانے والے نام نہاد صحافی اور صحافتی ادارے موجود ہیں۔ صحافت کے پیشے سے وابستہ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے کچھ ساتھی صحافت کا لبادہ اوڑھ کر کیا کیا کارنامے سر انجام دیتے ہیں۔ آئے روز ہمیں کوئی نہ کوئی قصہ، کہانی سننے کو ملتا رہتا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان بھی شعبہ صحافت نے اٹھایا ہے۔ چند کالی بھیڑوں کے منفی کردار کی وجہ سے صحافت جیسا مقدس پیشہ بدنام ہوا ہے۔ میڈیا کی دھاک اور اثر انگیزی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایک وقت تھا کہ اخبار میں چھپی ہوئی اور ٹی وی پر چلنے والی خبر کو عام آدمی حرف آخر سمجھتا تھا۔ آنکھیں بند کر کے اس پر یقین کرتا تھا۔ آج میڈیا کی وہ وقعت نہیں ہے جو چند سال پہلے تھی۔ اسے المیہ ہی کہنا چاہیے کہ ہماری صحافت اپنا وقار اور ساکھ کھو چکی ہے۔
لاہور پریس کلب کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کا پس منظر جاننے کیلئے میں نے کچھ سینئر صحافیوں اور پرانے کولیگز سے رابطہ کیا۔ پتہ چلا کہ یکے بعد دیگرے بلیک میلنگ وغیرہ کی سنگین شکایات پریس کلب کے سامنے آئیں، جن میں صحافی ملوث تھے۔ اس تناظر میں لاہور پریس کلب کو یہ کمیٹی تشکیل دینا پڑی۔ میری نزدیک یہ کوئی معمولی اعلان نہیں ہے۔ برسوں سے ہم یہ مطالبہ سن رہے ہیں کہ معاشرے کے تمام طبقات پر نگاہ رکھنے والے اور دوسروں کا احتساب کرنے والے میڈیا کو خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ خوش آئند امر ہے کہ اب صحافی برادری کے مستند پلیٹ فارم (لاہور پریس کلب) نے یہ بات محسوس کی ہے کہ صحافت کے نام پر ایک کرپٹ مافیا موجود ہے۔ یہ کرپٹ مافیا محکموں کو بلیک میل کرتا ہے اور ان محکموں کے عملے اور افسران کو بھی۔ اس بلیک میلنگ کے ذریعے مختلف طرح کے فوائد سمیٹتا ہے۔ پریس کلب کی جانب سے ان نام نہاد صحافیوں کی گرفت اور محاسبے کا اعلان ایک جرات مندانہ قدم ہے۔ برسبیلِ تذکرہ، ایسے کئی قصوں اور صحافیوں سے میں بھی واقف ہوں۔ شعبہ تدریس کی مثال لیجئے۔ میں ذاتی طور پر آگاہ ہوں کہ گزشتہ کئی برس سے سرکاری یونیورسٹیوں، کالجوں میں کچھ نام نہاد صحافی متحرک ہیں۔ یہ صحافی تعلیمی اداروں میں داخلے کروانے، امتحانات میں نمبر لگوانے، بھرتیاں کروانے میں ملوث ہیں۔ ایسے بھی ہیں جو انہی تعلیمی اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کے ساتھ مل کر ان اداروں یا ان کے سربراہان کے خلاف خبریں لگوانے اور بلیک میلنگ وغیرہ کا دھندہ کرتے ہیں۔ یہ تو محض ایک شعبے کی مثال ہے۔ دیگر شعبوں میں بھی یہ کالی بھیڑیں صحافت کے نام پر ایسے کاموں میں مصروف ہیں۔
لاہور پریس کلب کے صدر ارشد انصاری صاحب اور ان کی ٹیم کو مبارک باد کہ انہوں نے اپنے ہی شعبے میں موجود کالی بھیڑوں کیلئے “کرپٹ مافیا” کا نام استعمال کرنے کی جرات کی ہے۔ لازم ہے کہ ارشد صاحب اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ نوٹیفکیشن محض آرائشی اور علامتی ثابت نہ ہو۔ نا ہی یہ کسی فائل یا الماری کی زینت بن کر رہ جائے۔ شعبہ صحافت میں موجود کچھ کالی بھیڑوں کا احتساب ہوتا ہے تو اس سے شعبہ صحافت اور صحافیوں کے وقار میں اضافہ ہو گا۔ صحافیوں کی اپنی تنظیمیں اس طرح کے اقدامات کریں تو یقین جانئے کہ شعبہ صحافت کے لئے کسی بیرونی نگرانی کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے میڈیا کا ایک مخصوص حلقہ بے مہار اور بے لگام آزادی کا طلبگار ہے۔ یہ چاہتا ہے کہ وہ کسی کی پگڑی اچھالے، کسی کا گریبان نوچ ڈالے، کسی کے بھی ماتھے پر کالک مل دے، اس سے کوئی جواب دہی نہ ہو۔ سچ بتایئے کہ کیا اس طرز عمل کو صحافت کا نام دیا جا سکتا ہے؟ بالکل اسی طرح تفریحی میڈیا میں بھی بسا اوقات مذہبی اور اخلاقی حدود کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ متعلقہ ادارے جب ان چینلوں سے جواب دہی کرتے ہیں تو آزادیِ اظہار پر قدغن کا شور مچ جاتا ہے۔ آج کل مارننگ شو کی ایک ٹی وی اینکر کا قصہ زبان زدِ عام ہے۔ کیا ایسی فضولیات کو ہم تفریح کا نام دیں گے؟ ہرگز نہیں۔ تفہیم کا پہلو یہ ہے کہ دنیا کے کسی ملک میں بے لگام آزادی کا تصور موجود نہیں ہے۔ دنیا بھر میں میڈیا کی آزادی، ذمہ داری اور اخلاقی تقاضوں سے بندھی ہوئی ہے۔
جہاں تک آزادیِ صحافت اور آزادیِ اظہار رائے کا تعلق ہے تو مجھ سمیت ہر ذی شعور شہری اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ہم سب کو اپنی بات کہنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ صحافت اور ابلاغیات کی تدریس سے منسلک ہونے کے ناطے میں قومی میڈیا کو ڈنڈے کے زور پر چلانے کے سخت خلاف ہوں۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ میں اس امر پر یقین رکھتی ہوں کہ میڈیا کی کوئی حدود و قیود ہونی چاہئیں۔ مثالی صورتحال تو یہ ہے کہ نیوز میڈیا ہو یا انٹرٹینمنٹ میڈیا، یہ خود احتسابی کی راہ اپنائے۔ اس طرز عمل سے میڈیا کو پیمرا یا پریس کونسل جیسے اداروں کے سامنے جواب دہ ہونا پڑے گا اور نا ہی پیکا جیسے قوانین کی گرفت میں آنا پڑے گا۔ اس کے لئے لازم ہے کہ میڈیا کے ضابطہ اخلاق کا نفاذ ہو۔ ادارہ جاتی نگرانی کا موثر نظام موجود ہو اور صحافتی تنظیمیں اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کا احتساب خود کریں۔