بیوروکریسی کسی بھی ملک کے نظام میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا چہرہ ہوتی ہے، سرکاری مشینری کا ہر کل پرزہ اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے، درجہ بدرجہ کام ہونے سے ہر کام میں معقولیت آتی ہے اور گڑبڑ کے امکانات کم سے کم ہوتے چلے جاتے ہیں، اگر کہا جائے کہ ملکی آئین اور حکومت کی وضع کردہ پالیسیوں کے تحت سرکاری امور کی انجام دہی بیورو کریسی کا فرض منصبی اور آئینی تقاضا ہے تو غلط نہ ہو گا۔ ہمارے ہاں وفاقی اور صوبائی سول سروس اور مزید براں ان کے الگ الگ محکمہ جاتی گروپ اور ونگ کام کر رہے ہیں، ان سب کی تفصیل پر کسی وقت الگ سے سیر حاصل گفتگو کریں گے، بد قسمتی سے پاکستان ماضی میں برطانوی کالونی رہا اور اب بھی کالونیل نظام ہی کے زیر اثر اور وفاق کا مرہون منت ہے جس کی وجہ سے ملک اور صوبوں میں بیوروکریسی بٹی ہوئی ہے، وفاقی بیوروکریسی اور صوبائی بیوروکریسی جو پی اے ایس (پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس) اور پی ایم ایس (پروونشل مینجمنٹ سروس) کہلاتی ہے، اسی طرح پولیس سروس آف پاکستان اور صوبائی پولیس سروس ہے۔ اکثر صوبائی افسروں کا یہ شکوہ رہتا ہے کہ ملک میں وفاقی سروس، خصوصی طور پر پی اے ایس کا راج ہے، تمام پالیسیاں وہی بناتے اور عمل درآمد بھی وہی کراتے ہیں، پی ایم ایس افسران کے مطابق ان کو اپنے اپنے صوبوں کی پوسٹوں پر تعیناتی کیلئے پورا حصہ نہیں مل رہا جس کی وجہ سے ان کے اکثر افسر، دوسرے درجے کے افسر کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ میری نظر میں اس وقت جہاں وفاقی سروس والوں کی کچھ زیادتیاں ہیں وہاں صوبائی سروس کی ٹریننگ اور ان کے اپنے دوسرے معاملات کا بھی قصور ہے، پی ایم ایس کے اس وقت تین فیڈر ہیں جس کی وجہ سے بھی اس کے ارکان کا معیار متاثر ہوتا ہے، اس سروس میں ایک طرف نائب تحصیلدار، تحصیلدار سے ترقی پا کر سرکاری ملازم پی ایم ایس افسر کا درجہ پاتے ہیں تو دوسری طرف کچھ لوگ منسٹیریل کیڈر سے کوٹے پر پی ایم ایس افسر بنتے ہیں جبکہ اکثر پی ایم ایس افسر براہ راست مقابلے کا امتحان پاس کر کے اس سروس میں آتے ہیں۔ ان تینوں قسم کے افسروں کی بیک گراؤنڈ، کام کرنے کا انداز اور اہلیت مختلف ہوتی ہے جس سے اس سروس کے کچھ افسران کا معیار ایک خاص درجے سے اوپر نہیں جاتا اسی طرح براہ راست امتحان کے ذریعے پی ایم ایس افسران صوبائی پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں اور ان کی اکثریت بڑا مثالی کام کرتی ہے مگر ترقی پا کر پی ایم ایس افسر بننے والے کچھ افسر وں کا کام مثالی معیار کے مطابق نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے خود اس سروس کے سینئر افسران بھی ان سے نالاں رہتے ہیں۔ میرا مشاہدہ اس کے برعکس ہے، پی ایم ایس افسروں کی اکثریت کا معیار وفاقی سروس کے افسروں سے کم نہیں بلکہ فیلڈ میں اسسٹنٹ کمشنر کی ابتدائی پوسٹوں پر وہ بہت اچھا کام کرتے ہیں جبکہ سینئر لوگوں کو دیکھیں تو اس وقت سیکرٹری زکوٰۃ عرفان احمد سندھو، سیکرٹری ریگولیشن میاں ابرار احمد، سیکرٹری اطلاعات سید طاہر رضا ہمدانی، چیئرمین وزیر اعلیٰ معائنہ ٹیم سلمان اعجاز، نوید شہزاد مرزا، سپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ محمد ارشد بیگ، سپیشل سیکرٹری وزیر اعلیٰ سیف انور جپہ، کمشنر ملتان عامر کریم خان، کمشنر فیصل آباد راجہ جہانگیر انور، احمد کمال مان، عامر احمد خان، مرزا نصیر عنایت سمیت سیکڑوں کی تعداد میں بڑے محنتی اور کام کرنے والے افسر ہیں۔
وفاقی اور صوبائی افسروں کے درمیان معاملات بہتر بنانے کے لیے صوبائی افسروں کے خدشات تحفظات اور مطالبات کی روشنی میں نظام کا نئے سرے سے جائزہ لینا ضروری ہے اور وفا قی حکومت خاص طور پر وزیر اعظم آفس کو اس حوالے سے سوچ بچار بھی کرنا ہو گی ورنہ ریاست کا تیسرا مگر اہم ستون اور حکومت کا چہرہ انتظامیہ اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں مشکلات کا شکار رہے گا اور حکومت ڈلیور نہیں کر سکے گی۔ گورننس کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے، جب چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کی طرف سے صوبائی افسروں کو یہ تاثر ملے کہ ان کے ساتھ ایک جیسا سلوک نہیں ہو رہا، سول سروس کی بنیاد 1915ء کے انڈین ایکٹ کی روشنی میں 1954ء میں رکھی گئی اور اس کا بنیادی مقصد صوبوں کو وفاق کے ذریعے کنٹرول کرنا تھا، مگر حیرت انگیز طور پر یہ قواعد نہ تو آئین کا حصہ ہیں نہ اس حوالے سے قانون سازی کی گئی بلکہ صرف ایک زبانی معاہدے کے تحت صوبائی بیوروکریسی کی قسمت، مستقبل اور اختیارات طے کر دئیے گئے، جس کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں ہے، 1935ء کے قوانین اس حوالے سے عارضی نافذ کیے گئے مگر 1956ء اور 1962ء کے آئین میں اس کا تذ کرہ موجود نہیں، ذوالفقار علی بھٹو نے سی ایس پی سروس کی جگہ سی ایس ایس کا نظام متعارف کرایا مگر ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے صوبائی پوسٹوں پر وفاقی بیوروکریسی لگا دی گئی، ہونا تو چاہیے تھا کہ سی ایس پی کو ایکٹ، رولز اورکیڈر کے ذریعے نافذ کیا جاتا مگر آئین کے ذریعے ایسا ممکن نہ تھا اس لیے انتظامی حکم کا سہارا لیا گیا۔ ایسے حالات میں 250 سالہ قدیم نظام کو تبدیل کرنے کا خواب بھی کالونیل نظام میں کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے اور اسی بوسیدہ اور ناکارہ نظام کو اصلاحات کے ذریعے بحال کرایا جا رہا ہے جس پر صوبائی بیوروکریسی میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، جب تک اس بنیادی تضاد کا حل نہیں نکالا جا تا ریاست کمزور رہے گی، گلگت بلتستان سمیت تمام صوبوںکی بیوروکریسی کی خواہش ہے کہ وہ تمام رولز جو قانون سازی کے بغیر وجود میں آئے ان کو تحلیل کر کے قانون سازی کے ذریعے تمام سروسز کو تحفظ دیا جائے، ورنہ سٹیٹس کو مزید مضبوط ہو جائے گا اور کسی بھی تبدیلی کا خواب آنکھوں میں ہی دم توڑ دے گا۔ دنیا بھر میں ریاستیں آئین و قانون کے مطابق ہی چلتی ہیں اور مملکت کا نظام اگر زبانی معاہدوں کے تحت چلایا جائے تو آئین پر عملدرآمد ہوتا ہے نہ امور مملکت چلائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی عوامی مسائل و مشکلات کو حل کیا جا سکتا ہے، پھر حکومت کا ہونا نہ ہونا بھی یکساں ہو جاتا ہے، اس نازک صورتحال میں وفاقی بیوروکریسی اپنا رویہ بدلے اور صوبائی بیوروکریسی کو اس کا جائز آئینی حق دے اسے تیسرے درجے کی مخلوق اور شودر نہ سمجھے، صوبائی پوسٹوں پر وفاقی افسروں کی تعیناتی وفاق اور آئین کو کمزور کرتی ہے اس روش کو بھی بدلنا ہو گا اور اس کو نئے رولز اور قوانین کے مطابق ڈھالا جائے۔ وفاقی بیوروکریسی ٹھنڈے دماغ سے سوچے صوبائی سروس ان کی دشمن نہیں اور صوبائی سروس بھی یہی مظاہرہ کرے، دونوں سروسز کے لوگ اس بات کو سمجھیں کہ مقابلے کے امتحان میں کامیاب ہو کر آنے والے افسران ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں، آپس کی محاذ آرائی نہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان بڑے منجھے ہوئے، سمجھدار اور بردبار افسر ہیں، تمام صوبائی افسر ان کی ٹیم کا اسی طرح حصہ ہیں جس طرح وفاقی سروس کے لوگ ہیں، وہ ان کے مسائل سنیں، ان کو گلے سے لگائیں، اس سے ان کے قد اور عزت میں بھی اضافہ ہو گا اور انتظامی امور بھی بہتر چلیں گے۔