ویب مانیٹرنگ
چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف سندھ مختیار ابڑو کے مطابق نذرانےکی پیٹیاں 8 ماہ 14 دن بعد کھولی گئیں اور 4 روز تک گنتی جاری رہی۔
انہوں نے بتایاکہ 4 روز کی گنتی کے دوران پٹیوں سے 2 کروڑ 38 لاکھ 78 ہزار 750 روپے نکلے، نذرانے کی پیٹیوں سے سونا اور چاندی بھی بڑی مقدار میں ملی۔
ان کا کہنا تھاکہ غیر ملکی کرنسی بھی نذرانے میں شامل ہے جبکہ سونا چاندی توشہ خانے میں رکھا جائے گا۔
مختیار ابڑو کے مطابق اوقاف حکام کی نگرانی میں گنتی کا عمل مکمل کیا گیا اور رقم بینک میں جمع کرادی گئی۔
حضرت سید عثمان مروندی، جنہیں دنیا
“لعل شہباز قلندر”کے نام سے جانتی ہے، برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ، شاعر اور فلسفی تھے۔ آپ کا تعلق تیرہویں صدی عیسوی سے ہے اور آپ نے سندھ میں اسلام کی تبلیغ اور انسانیت کی خدمت میں کلیدی کردار ادا کیا۔
لعل شہبازقلندر کے بارے میں کچھ اہم معلومات
ولادت اور نسب
آپ ۱۱۷۷ء کے قریب آذربائیجان کے علاقے “مروند” میں پیدا ہوئے۔ آپ کا نسب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ملتا ہے، اسی لیے آپ “سید” کہلاتے ہیں۔
۲. القابات کی وجہ تسمیہ
لعل: آپ اکثر سرخ رنگ کا لباس زیب تن کرتے تھے اور آپ کے چہرے کا جلال و جمال لعل کی طرح دمکتا تھا، اس لیے لوگ آپ کو “لعل” کہنے لگے۔
شہباز: صوفیانہ اصطلاح میں اس سے مراد وہ بلند پرواز شخصیت ہے جو معرفت کی بلندیوں پر ہو۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کی روحانی پرواز بہت بلند تھی، اس لیے آپ کو “شاہباز” (شاہی باز) کا لقب ملا۔
قلندر: آپ صوفیانہ سلسلے کے “قلندریہ” طریقے سے تعلق رکھتے تھے، جو دنیاوی جاہ و حشم سے بے نیازی اور عشقِ الٰہی میں مست رہنے کا نام ہے۔
۳. سیہون شریف میں آمد
آپ نے حصولِ علم اور تبلیغ کے لیے کئی ممالک کا سفر کیا اور آخر کار سندھ کے شہر **سیہون** (سیہون شریف) میں قیام پذیر ہوئے۔ اس وقت یہ علاقہ مختلف برائیوں اور توہم پرستی کا مرکز تھا، جسے آپ نے اپنی تعلیمات اور اخلاق سے منور کیا۔
۴. روحانی رفاقت (چار یار)
تاریخِ تصوف میں “چار یار” کی اصطلاح بہت مشہور ہے، جن میں لعل شہباز قلندر کے ساتھ درج ذیل بزرگ شامل تھے:
حضرت بہاؤ الدین زکریا ملتانیؒ
حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ
حضرت سید جلال الدین بخاریؒ (مخدوم جہانیاں)
۵. تعلیمات اور اثرات
آپ کا پیغام امن، محبت اور رواداری کا تھا۔ آپ نے ذات پات اور مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی آپ کے مزار پر نہ صرف مسلمان بلکہ ہندو اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی بڑی عقیدت سے حاضری دیتے ہیں۔
۶. دھمال
آپ کے مزار پر مخصوص انداز میں کیا جانے والا رقص “دھمال” کہلاتا ہے، جو وجدانی کیفیت اور اللہ کی محبت کے اظہار کا ایک طریقہ مانا جاتا ہے۔ مشہور کلام *”دمادم مست قلندر”* آپ ہی کی شان میں لکھا گیا ہے جو پوری دنیا میں مقبول ہے۔
آپ کا عرس ہر سال ۱۸ سے ۲۰ شعبان تک سیہون شریف میں عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے.
