بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی مالی بحران کا شکار، اساتذہ کی ترقیوں پر نیا تنازع کھڑا ہوگیا

زکریا یونیورسٹی کو سالانہ اربوں روپے خسارے کا خدشہ، طلبہ اور اساتذہ پریشان

جنوبی پنجاب کی معروف تعلیمی درسگاہ بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار ہو گئی ہے۔ یونیورسٹی ذرائع اور زکریا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے مطابق ادارہ اس وقت تقریباً 67 کروڑ روپے سالانہ خسارے میں چل رہا ہے، جبکہ موجودہ داخلوں کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ خسارہ ایک ارب روپے سالانہ سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کا بجٹ 12 ہزار طلبہ کے داخلوں کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا، تاہم گزشتہ تعلیمی سیشن میں صرف 6 ہزار طلبہ نے داخلہ لیا، جس کے باعث مالی مشکلات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

Screenshot
Screenshot

وائس چانسلر پر اساتذہ کو غیر ضروری ترقی دینے کا الزام

یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر زبیر غوری پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ مالی بحران کے باوجود اساتذہ کی ترقیوں کے لیے سلیکشن بورڈ اجلاس منعقد کر رہے ہیں۔

باوثوق ذرائع کے مطابق وائس چانسلر پر یونیورسٹی کی اساتذہ تنظیم اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن اور سنڈیکیٹ کی جانب سے شدید دباؤ موجود ہے تاکہ مخصوص اساتذہ کو ترقی دی جا سکے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں جب یونیورسٹی بنیادی مالی مسائل سے دوچار ہے، ترقیوں سے اخراجات مزید بڑھ جائیں گے۔

Screenshot

ایچ ای سی کی ہدایات کے باوجود اضافی اخراجات جاری

ذرائع کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن پہلے ہی یونیورسٹیوں کو غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور اصلاحات نافذ کرنے کی ہدایات جاری کر چکا ہے، تاہم اس کے باوجود ترقیوں کے لیے سلیکشن بورڈ بلائے جانے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

یونیورسٹی کے مالی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مزید ترقیوں کی منظوری دی گئی تو ادارے کے لیے ملازمین کی تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

ایم فل اور پی ایچ ڈی طلبہ بھی شدید متاثر

یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایم فل اور پی ایچ ڈی سکالرز بھی مالی بحران سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے پاس بیرونی سکالرز کو تھیسز ایویلیوایشن فیس ادا کرنے کے لیے فنڈز موجود نہیں۔

اس صورتحال کے باعث سینکڑوں تحقیقی مقالے التوا کا شکار ہیں۔ طلبہ سے مکمل فیس وصول کیے جانے کے باوجود انہیں کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے تھیسز کے جائزے کے لیے 500 سے 700 ڈالر تک خود ادا کریں۔

تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال طلبہ کے مستقبل اور تحقیقی معیار دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

یونیورسٹی میں مراعات اور الاؤنسز پر بھی سوالات

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے پروفیسرز کو کنوینس الاؤنس کی مد میں ماہانہ تقریباً 150 لیٹر پٹرول دیا جاتا ہے، جس کی مالیت تقریباً 60 ہزار روپے بنتی ہے۔

تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ متعدد اساتذہ یونیورسٹی کی رہائشی کالونیوں میں رہتے ہیں اور ان کے دفاتر چند منٹ کی پیدل مسافت پر واقع ہیں، اس کے باوجود بھاری الاؤنسز جاری رکھے گئے ہیں۔

اسی طرح ریگولر کلاسز پڑھانے والے اساتذہ کو امتحانی پرچوں کی جانچ کے الگ معاوضے دیے جانے پر بھی اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔

Screenshot

بنیادی سہولیات بھی متاثر، گیس پائپ لائن دو سال سے خراب

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کی گیس پائپ لائن گزشتہ دو سال سے خراب ہے، لیکن مالی وسائل نہ ہونے کے باعث اسے تاحال درست نہیں کیا جا سکا۔

طلبہ اور ملازمین کا کہنا ہے کہ ایک طرف بنیادی سہولیات کی کمی ہے جبکہ دوسری جانب انتظامی اخراجات اور ترقیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے ادارے کی مالی مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔

زکریا یونیورسٹی کے مستقبل پر خدشات بڑھ گئے

زکریا سٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے اعلیٰ حکام، میڈیا اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی پنجاب کی اس اہم درسگاہ کو مالی تباہی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے پاس اس وقت صرف دو سے تین ماہ کی تنخواہوں کے برابر فنڈز باقی ہیں۔ اگر صورتحال یہی رہی تو مستقبل میں ملازمین کی تنخواہوں اور تعلیمی سرگرمیوں کا جاری رہنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں