ویب مانیٹرنگ،
لاہور: پنجاب کے تعلیمی نظام میں ایک بڑی خامی سامنے آئی ہے جہاں سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم تقریباً 17 لاکھ طلبا کے ‘ب فارم’ نمبر یا تو سرے سے غائب ہیں یا پھر ریکارڈ میں غلط درج ہیں۔ اس سنگین غفلت کا انکشاف ہوتے ہی محکمہ تعلیم پنجاب نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈیجیٹل ریکارڈ کی درستگی اور ‘یونیک آئی ڈی’ کا نفاذ
محکمہ تعلیم نے تمام طلبا کا ریکارڈ فوری طور پر ڈیجیٹل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس سلسلے میں سکول انفارمیشن سسٹم (SIS) کو اپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے تاکہ ہر طالب علم کا ب فارم نمبر درست طریقے سے سسٹم کا حصہ بن سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی ڈیٹا کو شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے تمام طلبا کو یونیک اسٹوڈنٹ آئی ڈی (Unique Student ID) جاری کرنے کے عمل کو تیز کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام سے بوگس رجسٹریشن کا خاتمہ ہوگا اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی میں آسانی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئیے: پنجاب بھر کے ہائی سکولوں کو ہائر سکینڈری کا درجہ دینے کا فیصلہ
سکول سربراہان اور ضلعی اتھارٹیز کو ہدایات
اس حوالے سے تمام ضلعی ایجوکیشن اتھارٹیز کو سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ سکولوں کے سربراہان (Principals/Headmasters) کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اصل ب فارم کی جسمانی تصدیق کے بعد ہی ڈیٹا کا اندراج یقینی بنائیں۔
اہم نکات:
تصدیق کا عمل: سکول سربراہان ب فارم دیکھ کر ہی سسٹم میں انٹری کریں گے۔
بغیر ب فارم طلبا: جن طلبا کے پاس تاحال ب فارم موجود نہیں، ان کا ڈیٹا بھی فوری مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ڈیڈ لائن: محکمہ تعلیم نے اس پورے عمل کو مکمل کرنے کے لیے 30 اپریل 2026 کی آخری تاریخ مقرر کر دی ہے۔
