ٹیکنالوجی ڈیسک | لاہور
زبانوں کے فرق اور بات چیت کی رکاوٹ کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی دوڑ میں دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن ‘گوگل’ نے ایک ایسی حیرت انگیز پیش رفت کی ہے، جس نے دنیا کو دنگ کر دیا ہے۔ گوگل نے اپنے جدید ترین آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم ‘جیمنی 3.5 لائیو ٹرانسلیٹ’ (Gemini 3.5 Live Translate) کا اعلان کر دیا ہے، جو اب محض روایتی انداز میں ترجمہ نہیں کرے گا، بلکہ بولنے والے کے لہجے، آواز کے اتار چڑھاؤ اور اس کے بولنے کی رفتار کو بھی ہو بہو برقرار رکھے گا۔
یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں دنیا بھر کے کروڑوں انسانوں، کاروباری اداروں اور تعلیمی شعبوں میں رابطے کا انداز یکسر بدلنے جا رہی ہے۔
روایتی ترجمہ اب ماضی کا قصہ: لائیو ٹرانسلیشن کیسے کام کرے گی؟
پرانے اور روایتی ترجمے کے سسٹمز میں عام طور پر صارف کو پورا جملہ بول کر رکنا پڑتا تھا اور پھر مشین اس کا ترجمہ کرتی تھی، جس سے گفتگو کا قدرتی بہاؤ ٹوٹ جاتا تھا۔ لیکن جیمنی 3.5 لائیو ٹرانسلیٹ اس معاملے میں بالکل مختلف اور جادوئی ہے۔
یہ سسٹم صارف کی گفتگو کو مسلسل سنتا رہتا ہے اور بغیر رکے، پلک جھپکتے ہی (تقریباً حقیقی وقت میں) اسے دوسری زبان میں منتقل کرتا جاتا ہے۔ گوگل کے مطابق یہ نظام دنیا کی 70 سے زائد زبانوں کو سپورٹ کرتا ہے اور اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ دو انسانوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے قدرتی احساس کو مرنے نہیں دیتا۔
گوگل کی یہ نئی سروسز کہاں دستیاب ہوں گی؟
گوگل اس انقلابی فیچر کو مرحلہ وار اپنے تمام بڑے پلیٹ فارمز کا حصہ بنا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر اسے درج ذیل سروسز میں شامل کیا جا رہا ہے:
گوگل ٹرانسلیٹ (Google Translate): عام صارفین کے لیے روزمرہ کی بات چیت کو آسان بنانے کے لیے۔
گوگل میٹ (Google Meet): بین الاقوامی آن لائن میٹنگز اور کانفرنسز میں فوری ترجمے کے لیے۔
جیمنی لائیو API (Gemini Live API): ڈویلپرز اور کمپنیوں کے لیے تاکہ وہ اپنے ایپس میں اسے استعمال کر سکیں۔
اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ اب مختلف زبانیں بولنے والے دو افراد جب آپس میں ویڈیو کال یا آڈیو کال پر بات کریں گے،