Blog-Solar-System-Expensive-Electricty

پاکستان میں بجلی کے بھاری بلوں سے نجات: سولر سسٹم لگوانے کا مکمل خرچہ اور طریقہ

بلاگر، عمرشاہ زیب

پاکستان میں موسمِ گرما کے آغاز کے ساتھ ہی بجلی کے بل آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ نیپرا (NEPRA) کی جانب سے ٹیرف میں مسلسل اضافے نے عام آدمی کے لیے اے سی (AC) چلانا تو دور، پنکھا چلانا بھی مشکل کر دیا ہے۔ ایسے میں سولر سسٹم نہ صرف آپ کے بل کو زیرو کر سکتا ہے بلکہ آپ کو “نیٹ میٹرنگ” کے ذریعے پیسے کمانے کا موقع بھی دیتا ہے۔

1۔ سولر سسٹم کی اقسام: آپ کے لیے کون سا بہتر ہے؟

سولر سسٹم لگوانے سے پہلے اس کی اقسام کو سمجھنا ضروری ہے:

آن گرڈ سسٹم (On-Grid System):
یہ سسٹم واپڈا کی سپلائی کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے۔ اس میں بیٹریاں نہیں ہوتیں، اس لیے یہ سستا پڑتا ہے۔ یہ نیٹ میٹرنگ کے لیے بہترین ہے۔
آف گرڈ سسٹم (Off-Grid System):
یہ مکمل طور پر بیٹریوں پر انحصار کرتا ہے اور واپڈا سے منسلک نہیں ہوتا۔ یہ ان علاقوں کے لیے اچھا ہے جہاں بجلی بالکل نہیں ہے۔
ائبرڈ سسٹم (Hybrid System):
یہ آن گرڈ اور آف گرڈ دونوں کا مجموعہ ہے۔ یہ بجلی بچاتا بھی ہے اور لوڈ شیڈنگ کے دوران بیٹریوں کے ذریعے بیک اپ بھی دیتا ہے۔ پاکستان میں گھروں کے لیے یہی سب سے زیادہ مقبول ہے۔

2۔ سولر سسٹم لگوانے کا تخمینہ خرچہ
پاکستان میں سولر پینلز اور انورٹرز کی قیمتیں عالمی مارکیٹ اور ڈالر کی قدر کے ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق خرچہ کچھ یوں ہے:

3 کلو واٹ (3kW): 4 پنکھے، 6 لائٹس، 1 فریج، استری خرچہ تقریبا 4,50,000 سے 5,50,000 لاکھ تک
5 کلو واٹ (5kW) 1 اے سی (1.5 ٹن)، فریج، پنکھے خرچہ تقریبا 7,50,000 سے 9,00,000 تک
10 کلو واٹ (10kW) 2 سے 3 اے سی، پانی کی موٹر، مکمل گھر خرچہ تقریبا 13,00,000 سے 16,00,000 لاکھ تک

3۔ نیٹ میٹرنگ (Net Metering) کیا ہے اور اس کا فائدہ؟

نیٹ میٹرنگ ایک ایسا عمل ہے جس میں آپ کی تیار کردہ اضافی بجلی واپس واپڈا (Grids) کو بیچ دی جاتی ہے۔
دن کے وقت: آپ کے سولر پینلز بجلی بناتے ہیں، جو آپ استعمال کرتے ہیں اور بچ جانے والی بجلی حکومت کو دے دی جاتی ہے۔
رات کے وقت: جب سولر کام نہیں کرتا، تو آپ واپڈا کی بجلی استعمال کرتے ہیں جو دن کو دی گئی بجلی سے “ایڈجسٹ” (Offset) ہو جاتی ہے۔
تیجہ:آپ کا بل یا تو صفر ہو جاتا ہے یا حکومت آپ کو اضافی بجلی کے پیسے ادا کرتی ہے۔

4۔ سولر سسٹم لگوانے کا مرحلہ وار طریقہ
1. لوڈ کا تعین: سب سے پہلے چیک کریں کہ آپ کے گھر کا ماہانہ یونٹ استعمال کتنا ہے (اپنے پرانے بلوں سے مدد لیں)۔
2. معیاری آلات کا انتخاب: ہمیشہ Tier-1 سولر پینلز (مثلاً Longi, Jinko, Canadian Solar) اور بہترین انورٹرز (مثلاً Growatt, Huawei, Knox) کا انتخاب کریں۔
3. ماہر انسٹالر کی خدمات: کسی مستند کمپنی سے سسٹم لگوائیں تاکہ وائرنگ اور اینگل (Angle) درست ہو، جس سے بجلی کی پیداوار زیادہ ہو۔
4. نیٹ میٹرنگ کی درخواست:
سسٹم لگنے کے بعد اپنی متعلقہ بجلی کمپنی (LESCO, K-Electric, PESCO وغیرہ) کو نیٹ میٹرنگ کے لیے درخواست دیں۔

حاصلِ کلام: کیا یہ سرمایہ کاری فائدہ مند ہے؟

سولر سسٹم پر آنے والا خرچہ عام طور پر3 سے 4 سال میں بلوں کی بچت کی صورت میں واپس مل جاتا ہے، جبکہ سولر پینلز کی لائف 25 سال تک ہوتی ہے۔ یعنی 4 سال بعد آپ اگلے 20 سال تک مفت بجلی حاصل کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کے پاس ایک ساتھ اتنی رقم موجود نہیں، تو پاکستان میں بہت سے بینک”سولر فنانسنگ” کی سہولت بھی دے رہے ہیں جہاں آپ آسان اقساط پر یہ سسٹم لگوا سکتے ہیں۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ سولر سسٹم اب ہر گھر کی ضرورت بن چکا ہے؟ ہمیں کمنٹس میں ضرور بتائیں!

اپنا تبصرہ لکھیں