لاہور: لاہور پریس کلب میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس میں پاکستان کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری اور جدید رہائشی منصوبوں کے آغاز کا اعلان کیا گیا۔ پریس کانفرنس میں چیئرمین اوورسیز حسنین نادر اور ثناء اظہر نے شرکت کی اور گارڈن ٹاؤن لاہور میں عالمی معیار کے رہائشی ٹاور منصوبے کی تفصیلات میڈیا کے سامنے پیش کیں۔
پریس کانفرنس کے دوران حسنین نادر نے بتایا کہ ان کی کمپنی لندن کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں کامیابی کے ساتھ متعدد منصوبے مکمل کر چکی ہے اور اب وہ اسی معیار کی سرمایہ کاری پاکستان میں متعارف کروانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ سے مزید 25 سرمایہ کار بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کیلئے ایک موزوں اور پرکشش ملک ہے، جہاں رئیل اسٹیٹ، زراعت اور خواتین کی فلاح و بہبود کے شعبوں میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ اسی سلسلے میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے دستکاری اسکولز قائم کرنے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں تاکہ خواتین اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں اور معاشی طور پر مضبوط بنیں۔
گارڈن ٹاؤن لاہور میں کم آمدنی والے طبقے کیلئے بلاسود اپارٹمنٹس کی فراہمی کا منصوبہ
حسنین نادر کے مطابق گارڈن ٹاؤن لاہور میں جدید رہائشی ٹاور کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے، جہاں شہریوں کو انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کے مطابق رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ متوسط اور کم آمدنی والے افراد کیلئے بلاسود اپارٹمنٹس فراہم کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس سے شہریوں کو بہتر اور معیاری رہائش میسر آ سکے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی کمپنی ہمیشہ اپنے منصوبے مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے پر یقین رکھتی ہے اور اسی عزم کے ساتھ لاہور کا یہ رہائشی منصوبہ بھی جلد مکمل کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید طرز زندگی، محفوظ ماحول اور عالمی معیار کی تعمیرات کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ پاکستان میں بھی عالمی سطح کی رہائش کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
لندن کے سرمایہ کار پاکستان کے رئیل اسٹیٹ، زراعت اور خواتین کے فلاحی منصوبوں میں سرمایہ کاری کیلئے تیار
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حسنین نادر نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی دنیا بھر میں اپنی محنت، دیانتداری اور کاروباری صلاحیتوں کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس ملک میں بھی پاکستانیوں نے سرمایہ کاری کی وہاں کامیابی ان کا مقدر بنی، اور اب وقت آ گیا ہے کہ اوورسیز پاکستانی اپنا سرمایہ پاکستان منتقل کریں تاکہ ملکی معیشت مضبوط ہو، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور عوام کو بہتر مستقبل مل سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے ساتھ بروقت اور معیاری ڈلیوری انتہائی ضروری ہے، کیونکہ عوام کا اعتماد بحال کرنا ہی کامیاب منصوبوں کی بنیاد ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاہور اور لندن کے کئی ترقیاتی مسائل اور تقاضے ایک جیسے ہیں، اس لیے بین الاقوامی تجربات کو پاکستان میں لاگو کر کے شہری ترقی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر سرمایہ کاروں نے اس امید کا اظہار کیا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کی سرمایہ کاری سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں نئی ترقی کا آغاز ہوگا۔
